ابنا:شام کے تعلق سے اگر اس کے مخالف ملکوں کے آپسی تعلقات کا جائزہ لیا جائے تو ان میں خاصا اختلاف اور مفادات کا ٹکراؤ اور مزاجوں میں زمین و آسمان کا فرق نظر آتا ہے۔لیکن ایک مسئلے میں سب کا اتفاق اور اشتراک نظر پایا جاتا ہے اور مسئلہ ہے کہ علاقے میں صہیونی حکومت کو لاحق خطرات کو جس طرح بھی ممکن ہو دور کیا جائے۔ان ملکوں کی جانب سے بشار اسد کی مخالفت کی کوئی اور وجہ نظر نہیں آتی اور کچھ عرص قبل تک سعودی عرب، قطر اور ترکی کے تعلقات نہایت ہی عمدہ اور دوستانہ تھے۔ اگر یہ اس بات کو درست مان لیا جائے کہ یہ ممالک سرکاری فوجیوں کے ہاتھوں شام کے عوام کی قتل عام کی بناپر، بشار اسد کی مخالفت کر رہے تو سوال یہ پیدا ہوتا کہ پھر یہ ممالک بحرین کی شاہی حکومت کے ہاتھوں بحرینی عوام کے قتل عام پر کیوں خاموش ہیں؟ یمن کی عوامی تحریک کا ساتھ دینے سے کیوں گریزاں ہیں۔ واضح سی بات ہے کہ علاقے میں یکے بعد دیگرے کئی ایک مغرب نواز حکمرانوں کا تختہ پلٹنے کے بعد عالمی اور علاقائی سطح طاقت کا توازن مجموعی طور پر مسلمانوں کے حق میں پلٹ گیا ہے اور امریکہ اور اتحادیوں کو اسی بات کا سخت قلق ہے اور وہ شام میں بشار اسد کی حکومت کو زیر کرکے دراصل اس توازن کو دوبارہ اپنے حق میں کرنا چاہتے ہیں اور اس مذموم مقصد کے حصول کے لئے سعودی عرب، قطر اور ترکی امریکہ اور مغرب کو خوش کرنے کے لئے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے میں کوشاں ہیں۔لیکن حالات نے ثابت کردیا کہ وہ اپنے مقصد میں بری طرح سے ناکام ہوچکے ہیں۔ اس سلسلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کی مشترکہ کمانڈ میں تشہیراتی شعبے کے سربراہ بریگیڈیر جنرل سید مسعود جزائری نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ شام کے عوام اور حکومت کے خلاف عالمی سامراج کی سازشیں ناکام ہوچکی ہیں۔ بریگيڈیر جنرل سید مسعود جزائری کے مطابق شکست کے بعد سامراجی محاذ اپنے سیاسی نمائندوں کو مختلف ملکوں میں بھیج کر اس شکست کا تدارک کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ البتہ عرب لیگ اور اقوام متحدہ کے نمائندے کے منصوبے کے مطابق شام میں جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد شروع ہوگيا ہے۔ شام کی حکومت نے خبردار کیا ہے کہ اگر دہشت گردوں نے فوج اور نجی و سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا اور لوگوں پر حملے کئے تو وہ سخت جواب دے گي۔ ادہر اقوام متحدہ اور عرب ليگ کے نمائندے کوفی عنان نے اپنے دورۂ تہران کے موقع پر اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی سے گفتگو میں کہا کہ شام کے عوام کو ہی اپنے ملک کےمستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے اور دوسروں کو چاہئے کہ وہ شام کی حکومت اور حکومت مخالفین کو مذاکرات کی میز پر لانے اور شام میں امن و استحکام کی برقراری اور اس ملک کے مسائل پرامن طریقے سے حل کئے جانے کی راہ ہموار کریں۔ اس ملاقات میں اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے بھی شام میں اغیار کی مداخلت کی مخالفت اور اس ملک کے صدر بشار اسد کی جانب سے اصلاحات کے جاری عمل کے دائرے میں شامی عوام کے حقوق کے تحفظ پر مبنی اس ملک میں کسی بھی طرح کے امن منصوبے پر ایران کی حمایت کا اعلان کیا۔ اس ملاقات کے بعد فریقین نے پریس کانفرنس سے بھی خطاب کیا جس میں کوفی عنان نے شام کے مسئلے کے حل کے بارے میں اپنے چھے نکاتی منصوبے کے حوالے سے کہا کہ اس منصوبے کے تناظر میں شام کی حکومت اور حکومت مخالفین کی جانب سے تمام مسائل بغیر کسی دباؤ اور طاقت کے استعمال کے بغیر اور جبر اور فوجی طاقت کا استعمال نہ کئے جانے پر تاکید کی گئی ہے۔اب جبکہ شام نے باضابطہ طور جنگ بندی کی پیشکش کو قبول کرکے اس پر عمل درآمد شروع کردیا ہے، دیکھنا یہ ہے کہ قطر، سعودی عرب اور ترکی اپنے عزایم سے دستبردار ہوجاتے ہیں یا کسی اور سازش کے لئے امریکی احکامات کا انتظار کرتے ہیں۔ بہرحال قوموں نے اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کرنے کے بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی رحمتہ اللہ علیہ کے پیغام کو اچھی طرح سے سمجھ لیا ہے اور امریکہ اور اس کے حواریوں کی سازشیں اس مقصد کے حصول میں عارضی روکاٹیں تو ڈال سکتے ہیں، لیکن مستقل بنیادوں پر اسے ختم کرنے کی صلاحتیں ان میں ختم ہو چکی ہیں۔ شام میں بلاشبہ اصلاحات کی ضرورت ہے لیکن ایسی اصلاحات جو سامراجی طاقتوں کے مفاد کی بجائے اس عوام اور مسلمانوں کے حق میں ہوں۔ شام کی موجودہ حکمراں جماعت اور ملک کی واحد سیاسی پارٹی البعث نے اس بات کو محسوس کرلیا ہے کہ ملک میں سیاسی اصلاحات ناگزیر ہیں اور صدر بشار اسد نے ذاتی طور پر اس سلسلے میں جو بنیادی قدم اٹھائے ہیں وہ مستقبل میں نتیجہ خیز ثابت ہوں گے۔ ایران نے شام میں اصلاحات کیلئے ہمیشہ اس ملک کی حکومت کو ترغیب دلائی ہے تاہم اس ملک میں بیرونی مداخلت یا اس ملک کے خلاف فوجی طاقت کا استعمال کئے جانے کی ہمیشہ مخالفت کی ہے اور شام میں لیبیاء کے تجربے کی مانند بیرونی افواج کی چڑھائی کی واضح الفاظ میں مخالفت کرچکا ہے ۔ یہیز وجہ ہے کہ شام کے بارے میں ایران اور کوفی عنان کے مواقف میں پائی جانے والی نزدیکی کے پیش نظر اقوام متحدہ کے سابق سکریٹری جنرل نے تہران کا دورہ کیا جو اسلامی جمہوریہ ایران کے علاقائی کردار اور اثر و رسوخ کے پیش نظر خاصی اہمیت کا حامل شمار ہوتا ہے۔
.......
/169